مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق پچھلے چند ایام کے دوران بیت المقدس کے اہم مقامات بالخصوص مسجد اقصٰی کے قرب وجوارمیں بڑی تعداد میں صہیونی خواتین پولیس اہلکاروں کو کارروائیوں میں حصہ لیتے دیکھا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہودی خواتین اہلکاروں کا اہم مقصد تو قبلہ اول میں آنے والی خواتین کا تعاقب کرنا ہے۔ خاص طورپر ان جگہوں پرجہاں یہودی آباد موجود ہوں ان کے آس پاس فلسطینی خواتین کے خلاف کارروائیاں کرنا ہے تاکہ وہ یہودی شرپسندوں کے خلاف کسی قسم کی نعرے نہ لگاسکیں۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ بہت سی خواتین پولیس اہلکاروں کو مسجد اقصیٰ کے باب السلسلہ کے باہر دیکھا گیا ہے۔
فلسطینی خاتون سماجی کارکن سلویٰ الغزاوی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی لیڈی پولیس فورسز نہ صرف خواتین کو قبلہ اول سے دور رکھنے کے لیے طاقت کا استعمال کرتی ہیں بلکہ وہ خواتین کو گرفتار کرکے جیلوں میں لے جانے تک تعاقب کرتی ہیں۔
الغزاوی نے بتایا کہ گذشتہ روز جب ہم خواتین کا ایک گروپ لےکرقبلہ اول میں پہنچے تو اچانک ہمیں صہیونی خاتون پولیس اہلکاروں نے گھیرے میں لیا۔ خواتین پر اندھا دھند لاٹھیاں برسانا شروع کردیں،یہاں تک کہ ہمیں بھاگ کر اپنی جانیں بچانا پڑیں۔ اس طرح کے واقعات اب روز کا معمول بن چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں تین خواتین کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار کرنے میں اسرائیلی خواتین پولیس اہلکاروں نے مدد فراہم کی تھی جس کے بعد انہیں بیت المقدس میں المسکوبیہ پولیس سینٹر میں لے جایا گیا اور عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے تینوں خواتین کو تین سے چار ماہ کے لیے قبلہ اول سے بے دخل کردیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
