مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کےپارلیمانی لیڈر محمد فرج الغول نے غزہ کی پٹی میں قانون ساز کونسل کےاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ مراکش حکومت کے اس اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رابط اسرائیل کے ساتھ ہرقسم کے تعلقات ختم کرنے کا بھی اعلان کرے۔
حماس رہ نما اور رکن پارلیمنٹ نے بعد ازاں مراکش کی حکمراں جماعت ’’انصاف وترقی پارٹی‘‘ کے سربرراہ عبداللہ بووانو سے ٹیلیفون پربھی بات چیت کی اور رباط حکومت کی جانب سے شمعون پیریز کا دورہ منسوں کیے جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔
دوسری جانب ڈاکٹر بووانو کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اور پورا ملک فلسطینیوں کی آزادی اور ان کے تمام دیرینہ مطالبات اور حقوق کے لیے ہرممکن اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کی آزادی کے لیے فلسطینیوں کی جدو جہد آزادی اور صبر ثبات پر مراکشی قوم کو بھی فخر ہے۔
خیال رہے کہ مراکش کی حکومت نے حال ہی میں سابق اسرائیلی صدر کو اپنی میزبانی میں ہونے والی ایک عالمی امن کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ اس پر مراکش میں سخت عوامی رد عمل سامنے آیا جس کے بعد گذشتہ روز رباط نے شمعون پیریز کا دورہ منسوخ کردیا۔
غزہ کی پٹی میں منعقدہ فلسطینی پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوسرے ارکان نے بھی مراکش کی جانب سے سابق اسرائیلی صدر کے دورے کی منسوخی کا خیر مقدم کیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
