اسرائیل کےایک کثیرالاشاعت عبرانی روزنامہ ’’ہارٹز‘‘ نے اپنی رپورٹ میں جامعہ بیرزیت میں اسلامک بلاک کی کامیابی اور تحریک فتح کی شکست کو فلسطینی اتھارٹی کے لیے ’’سیاسی زلزلے‘‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ جامعہ بیرزیت میں طلباء یونین کے انتخابات کے نتائج نے مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کی اجتماعی سوچ کی عکاسی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامک بلاک کی کامیابی کو مغربی کنارے میں ریفرنڈم سمجھنا چاہیے۔
اخبار مزید لکھتا ہے کہ مغربی کنارے میں طلباء یونین کے انتخابات میں حماس کے قریب سمجھے جانے والے گروپ کی شاندار کامیابی بھی اسرائیل کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل میں بھی اسے سیاسی زلزلے کے معنوں میں لیا جا رہا ہے جبکہ کچھ لوگ ان نتائج کو مغربی کنارے کے عوام کی اجتماعی سوچ کی عکاسی قرار دے رہےہیں۔
خیال رہے کہ پچھلے بدھ کو مغربی کنارے میں جامعہ بیرزیت میں طلباء یونین کے انتخابات میں حماس کے طلباء گروپ اسلامک بلاک نے 51 میں سے 26 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ تحریک فتح کےیوتھ ونگ کے حصے میں 19 اور باقی گروپوں کے حصے میں کل 6 نشستیں آئی تھیں۔
اسلامک بلاک کی شاندار کامیابی پر فلسطینی اتھارٹی بھوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ اس کا اظہار صدر محمود عباس کے ایک تازہ فیصلے سے بھی ہوتا ہے جس میں انہوں نے مغربی کنارے میں طلباء یونین کے انتخابات روک دیے ہیں۔ صدر محمود عباس کو خدشہ ہے کہ مغربی کنارے کی دیگر جامعات میں بھی اسلامک بلاک ہی کو غیرمعمولی پذیرائی مل سکتی اور انہیں نوشتہ دیوار دکھائی دے رہا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
