مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ہفتےکے روز مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں ایک فلسطینی نوجوان کو صہیونی فوجیوں نے گولیاں مار کرشہید کردیا۔ بعد ازاں اس کی میت پوسٹ مارٹم کے لیے ایک ملٹری اسپتال منتقل کردی گئی تھی۔
نہتے فلسطینی شہری کی شہادت کے خلاف الخلیل میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ الخلیل میں ابو اسنینہ کالونی کے قریب فلسطینی مظاہرین اور صہیونی فوجیوں کے درمیان تصادم بھی ہوا۔ قابض فوج نے مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلائیں۔ تاہم مظاہرین نے بھی قابض فوج پرسنگ باری کی۔
پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے صہیونی فوجیوں نے قدیم الخلیل شہر کو فوجی علاقہ قرار دے کر فلسطینیوں کے اس میں داخلے پر پابندی عاید کردی تھی تاہم اس کے باوجود فلسطینی شہری مظاہرے کرتے رہے۔
ادھر اسرائیلی فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز الخلیل شہر میں ایک فلسطینی نوجوان نے ایک یہودی فوجی افسر پرخنجر سے پے دردپے چار حملے کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔ فوج نے حملہ آور کو گولیاں مار کرشہید کردیا اور اس کی میت قبضے میں لے لی گئی تھی۔ تاہم رات گئے شہید کا جسد خاکی اس کی شناخت ظاہر کیے بغیر ہی اس کے ورثاء کے حوالے کردیا گیا۔
فلسطینی امدادی ادارے’’ہلال احمرفلسطین‘‘ کے مطابق شہید نوجوان کا جسد خاکی مل گیا ہے تاہم اس کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
