مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ہفتے کے روز منعقدہ اجتماعی شادی کی تقریب میں نو بیاہتا جوڑے ایک قافلے کی شکل میں غزہ کے مغرب میں شادی ہال میں پہنچے۔ جہاں متحدہ امارات کی جانب سے مہمانوں کے لیے کھانے پینے اوررشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والوں کے لیے تحائف کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔
تفصیلات کے مطابق اجتماعی شادی کی تقریب میں متحدہ عرب امارات اور فلسطین کے قومی پرچم بھی لہرائے گئے۔ اس موقع پر دلہوں نے سیاہ رنگ کا قومی لباس زیب تن کررکھا تھا اور گلے میں فلسطینی کوفیہ جس کے ایک کونے پر متحدہ عرب امارات کے سربراہ الشیخ خلیفہ بن زید کی تصاویر شائع کی گئی تھیں۔
شادی کی تقریب کے موقع پر غزہ کی پٹی میں شدید بارش بھی جاری رہیں لیکن بارش کے باوجود یہ تقریب نہایت کامیاب رہی اور شہریوں کی بڑی تعداد میں اس میں شرکت کی۔ اس موقع پر نو بیاہتا جوڑوں نے امن اور آزادی کی علامت کے طورپر کبوتر بھی آزاد کیے۔
شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے فتح کے منحرف لیڈر محمد دحلان کی اہلیہ جلیلہ دحلان کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاہم فلسطینی اتھارٹی کے حکام نے انہیں غزہ داخلے سے روک دیا جس پر شادی کے منتظمین نے فلسطینی اتھارٹی کو کڑی تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔ اجتماعی شادی کی تقریب کی انتظامی کمیٹی نے متحدہ عرب امارات کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی جانب سے اجتماعی شادیوں کا اہتمام کرانے کے اقدام کو قابل تعریف اقدام قرار دیا اور کہا کہ اس اقدام سے دکھوں کا شکار فلسطینی قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے میں مدد ملے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
