مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ وزارت داخلہ کے ترجمان ایاد البزم نے میڈیا کو بتایا کہ بعض ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ غزہ کی پٹی میں داعش نے اپنے مراکز قائم کرنا شروع کردیے ہیں۔ یہ تمام افواہیں بے بنیاد ہیں۔ غزہ کی پٹی میں داعش کا کوئی وجود نہیں ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں اور ابھی تک ایسا کوئی مشتبہ شخص گرفتار نہیں کیا گیا جس پر داعش کی حمایت کا شبہ کیا جاسکے۔ تاہم جس شخص کو دولت اسلامی کا رکن قرار دے کر غزہ کی پٹی میں داعش کی موجودگی کا تاثر دیا جا رہا ہے اس کا تعلق داعش سے نہیں ہے۔ اسے گرفتار کرنےسے قبل سیکیورٹی اداروں نے اس کے وارنٹ جاری کیے تھے اور خود کو حکام کے حوالے کرنے کو کہا تھا مگر وہ فرار ہوگیا تھا۔
خیال رہے کہ بعض ذرائع ابلاغ نےیہ خبردی تھی کہ غزہ کی پٹی میں پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا ہے جس کا مبینیہ طورپر تعلق دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے ساتھ ہے۔ غزہ وزارت داخلہ کا کہناہے کہ انہوں نے جس شخص کو حراست میں لیا ہے اس کا داعش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ اب بھی سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہے اور اسے رہا نہیں کیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
