عینی شاہدین نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ قابض فوجیوں نے قریوت قصبے پر دھاوا بولا اور گھر گھر تلاشی کی کارروائی کے دوران 13 سالہ ایثار سامر موسیٰ پر وحشیانہ تشدد کیا۔
عینی شاہدین کا کہناہے کہ قابض فوجیوں نے قریوت پر یلغار کرنے کے بعد شہریوں کے گھروں پر ربڑ کے کور میں لپٹی دھاتی گولیوں اور آنسوگیس کی بارش کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد دم گھٹںے سے متاثر ہوئے ہیں۔
اس دوران صہیونی فوجویں نے ایثار موسیٰ کو اس کےگھر کے سامنے روکنا اور اندھا دھند پیٹنا شروع کردیا۔ یہودی فوجی معصوم بچے کو بندوقوں کے بٹ، لاتیں اور ٹھڈے مارتے رہے، جس کے نتیجے میں بچہ شدید زخمی ہوگیا۔ بعد ازاں مجروح بچے کو ہلال احمر کے اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔
صہیونی فوجیوں کے ہاتھوں بچے پر وحشیانہ تشدد کے واقعے کے بعد مقامی فلسطینی شہریوں کی جانب سے سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
