مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق نابلس میں محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ شہر کے مشرقی اللبن اور الساویہ قصبوں کی سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے دونوں قصبوں کے فلسطینی مکین گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے۔صہیونی میراتھن کے نتیجے میں سیکڑوں بچے اسکول بھی نہیں جاسکے اور ملازمین اور کاروباری حضرات گھروں میں بند ہوگئے تھے۔
الساویہ اور اللبن اسکول کے پرنسپل عدنان احمد نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ شہر کی مرکزی شاہراہ کو یہودی میراتھن کی وجہ سے ہرطرح کی آمد ورفت کے لیے بند کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے بچے، اساتذہ اور دیگر ملازمین اسکول میں نہیں پہنچ پائے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بچوں کو گھروں میں روکے جانے کا مقصد انہیں یہودی شرپسندوں کے ممکنہ حملوں سے بچانا تھا کیونکہ بچوں کے سڑکوں پر نکلنے سے خطرہ تھا کہ یہودی شدت پسند ان پر تشدد کرسکتے ہیں۔
عدنان احمد نے بتایا کہ یہودی میراتھن کی وجہ سے نابلس کے کم سے کم پانچ اسکول مکمل طورپر بند رہے۔ ان میں الساویہ۔ اللبن ہائی اسکول، الساویہ ہائی اسکول برائے طالبات، الساویہ پرائمری اسکول، البن ہائی اسکول برائے طالبات اور اللبن پرائمری اسکول شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
