مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقامی ذرائع ابلاغ اورسوشل میڈیا پر اسپانوی طبی ٹیم کے ہاتھوں حادثاتی طورپر دو بچوں کی موت کے بعد ڈاکٹروں کے خلاف شدید رد عمل سامنے آیا۔ سوشل میڈیا پر ڈاکٹروں کو’’داعشی‘‘ قرار دے کرانہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ عوامی رد عمل کے بعد انیس ڈاکٹروں نے وزیر صحت جواد عواد کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق منگل کی شب اسپانوی طبی ٹیم نے دو فلسطینی بچوں کے دل کی سرجری کی تاہم دونوں بچوں کی سرجری کامیاب نہ ہوسکی اور حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے۔ مقامی شہریوں اور ذرائع ابلاغ نے اسے ڈاکٹروں کی کوتاہی کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کو ڈاکٹروں کے اجتماعی استعفے کی ایک نقل بھی موصول ہوئی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ وہ بے قصور ہیں لیکن ذرائع ابلاغ میں ان کے خلاف شرمناک مہم چلائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں نے اپنے طورپر بچوں کی جانیں بچانے کی بھرپور کوشش کی ہے مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ لہٰذا وہ بلا جواز میڈیا مہم کے خلاف بہ طور احتجاج اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔
سلفیت اسپتال کے ڈائریکٹر محمود عارف کا کہنا ہے کہ اسپین کی جس میڈیکل ٹیم نے عارضہ قلب میں مبتلا بچوں کی سرجری کی ہے وہ معمولی ڈاکٹرنہیں تھے۔ وہ پیشہ ور اور ماہر معالج ہیں اور اس سے قبل وہ اس نوعیت کے 600 کیسز کامیابی سے نمٹا چکے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
