مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق رام اللہ میں المیزان مرکزبرائے انسانی حقوق کے زیراہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صائب عریقات نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف میں فلسطین میں یہودی آباد کاری اور پچھلے سال غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ کے دوران جنگی جرائم کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا۔
صائب عریقات کا کہنا تھا کہ ہم نے عالمی عدالت انصاف سے اس لیے رجوع کیا ہے تاکہ فلسطینی عوام کے غصب کیے گئے حقوق انہیں فراہم کرنے اورفلسطینی قوم کو انصاف دلانے کی کوشش کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کے مرتکب اسرائیل کو کٹہرے میں لایا جائے۔ یہ ہمارے کندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ ہم اپنے شہداء، زخمیوں اور اسیران کے ساتھ بد عہدی نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وقت گذرنے سے جنگی جرائم ساقط نہیں ہوجاتے۔ ہم عالمی عدالت انصاف سے رجوع کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
صائب عریقات کا کہنا تھا کہ ہمیں توقع ہے کہ عالمی فوج داری عدالت ہماری درخواستوں پر جلد ازجلد فیصلے سنائے گی اور فلسطینیوں کے غصب کیے گئے حقوق انہیں دلانے میں اہم اپنا آئینی اور قانونی فریضہ ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کےبعد مقدمات کی پیروی کے لیے پیشہ ورانہ ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو عدالت میں ہونے والی کارروائی کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کرے گی۔ اس سلسلے میں تمام فلسطینی تنظیموں کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔
صائب عریقات کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کےحل کیے بغیر مشرق وسطیٰ میں دیر پا قیام امن ناممکن ہے۔ ہم اپنے حق کی جدو جہد کے ساتھ ساتھ پورے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے کوشش کررہے ہیں۔ عالمی برادری کو ہمارا ساتھ دینا چاہیے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
