مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ 550 فلسطینی بچے پچھلے سال جولائی اور اگست کے دوران غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی اکاون روزہ جنگ کے دوران وحشیانہ بمباری کے دوران شہید کیے گئے۔بمباری میں ہزاروں کی تعداد میں بچے زخمی بھی ہوئے۔
رپروٹ میں بتایا گیا ہے کہ بقیہ گیارہ بچے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی روز مرہ کی بنیاد پر جاری ریاستی دہشت گردی کے نتیجے مہں شہید ہوئے۔ پچھلے ایک سال کے دوران کم سے کم 800 فلسطینی بچوں کو حراست میں لے کرعقوبت خانوں میں ڈالا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت بھی اسرائیلی جیلوں میں 200 سے زائد فلسطینی بچے زیرحراست ہیں جنہیں جنگی جرائم کے تحت قید خانوں میں رکھا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے کم عمرفلسطینی بچوں کی گرفتاریوں کو روز کا معمول بنا لیا گیا ہے۔ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں فلسطینی شہریوں کے بچوں کو آئے روز کی پابندیوں کا سامنا ہے۔ قابض فوجی اسکولوں اور گھروں پر چھاپے مار کر نام نہاد الزامات کے تحت بچوں کو گرفتار کرتے اور انہیں جیلوں میں ڈال دیتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
