مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی جہاد کے ترجمان اور مرکزی رہ نما دائود شہاب نے غزہ کی پٹی میں صدر محمود عباس کے متنازعہ بیان کے خلاف نکالی گئی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی پٹی میں ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ آپریشن کی طرز پر فوجی کارروائی کا مطالبہ کرکے صدر عباس نے قوم میں افراتفری اور بے اتفاقی پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا یہ بیان نہایت غیر ذمہ دارانہ ہے جو ان کے منصب پر فائز کسی بھی شخص کی جانب سے دیے جانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
خیال رہے کہ دو روز قبل قاہرہ میں منعقدہ عرب لیگ کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر محمود عباس نے کہا تھا کہ جس طرح یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ اسی طرح کا فوجی آپریشن عراق، صومالیہ، لیبیا، فلسطین اور دوسرے ممالک میں بھی باغی گروپوں کے خلاف ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے انہوں نے غزہ کی پٹٰی کا خصوصی حوالہ دیا اور کہا کہ غزہ کی پٹی میں بھی ہمیں بغاوت کا سامنا ہے۔
اسلامی جہاد کے ترجمان کا کہنا تھا کہ محمود عباس کے متنازعہ بیان سے فلسطین میں قومی مفاہمت کے لیے جاری مساعی کو شدید دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمود عباس اپنی ہی قوم کے خلاف کس طرح بغیر کسی وجہ کے فوجی آپریشن شروع کرسکتے ہیں۔ فوجی آپریشن تو اسرائیل کےخلاف ہونا چاہیے۔
اسلامی جہاد کے رہ نما دائود شہاب کا کہنا تھا کہ صدر محمود عباس کی جانب سے غزہ کی پٹی میں فوجی آپریشن کی تجویز ایک ایسے وقت میں دی گئی جب اس سے چند روزقبل قومی حکومت کے سربراہ رامی الحمد اللہ غزہ کا دورہ کرکے شہریوں کو درپیش مشکلات کے حل کا وعدہ کرکے گئےہیں۔ صدر عباس کی جانب سے اس نوعیت کا بیان دے کر اپنی قوم کے خلاف دشمنی کا ثبوت دیا گیا ہے۔ اس طرح کی بیان بازی سے فلسطین قوم مزید انتشار کا شکار ہوگی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
