مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ’’مرکز برائے فلسطینی پولٹیکل اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘‘ کے زیراہتمام کیے گئے ایک رائے عامہ کے جائزے کے مطابق 74 فی صد فلسطینی عوام اب بھی اسرائیل کے خلاف مسلح جدو جہد کے حامی ہیں۔ ان نتائج سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ فلسطینی عوام کی بھاری اکثریت حماس کے طریقے کے مطابق اسرائیل کے خلاف جدو جہد جاری رکھنے کی حمایت کرتی ہے۔
یہ سروے جائزہ 19 سے 21 مارچ کے درمیا کیا گیا تھا جس میں شہریوں کی اکثریت نے کھل کر اسرائیل کے خلاف حماس کی مزاحمتی جدو جہد کی حمایت کی تھی۔
سروے رپورٹ میں 56 فی صد رائے دہندگان نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کو غزہ کی پٹی سے مغربی کنارے میں منتقل کیے جانے کی حمایت کی۔ 68 فی صد کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم نہیں کرتا اور صہیونی ریاست پر راکٹ حملے دوبارہ شروع کردینے چاہئیں۔
سروے رپورٹ میں شامل رائے دہندگان میں سے 37 فی صد کے خیال میں فلسطین کی آزادی کے لیے صرف مسلح جدو جہد ہی واحد کارگر راستہ ہے۔ 29 فی صد کے خیال میں مذاکرات کے ذریعے فلسطین آزاد ہوگا جبکہ 30 فی صد کے خیال میں فلسطین کی آزادی کے لیے پرامن جدو جہد کرنا ہوگی۔
سروے میں 82 فی صد نے فلسطین کی عالمی تنظیموں میں شمولیت کی حمایت کی۔ 68 فی صد نے اسرائیل کے خلاف پرامن عوامی تحریک چلانے پر زور دیا، 48 فی صد نے مسلح جدو جہد اور 43 فی صد نے فلسطینی اتھارٹٰی کے تحلیل کرنےکا مطالبہ کیا۔ 69 فی صد کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کا فیصلہ درست تھا جبکہ 86 فی صد نے اسرائیل کے خلاف عالمی فوجی داری عدالت میں مقدمات کے قیام کا بھی مطالبہ کیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
