مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ان خیالات کا اظہار قطری وزیرخارجہ ڈاکٹر خالد العطیہ نے قاہرہ میں منعقدہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ سطح کے اجلاس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ تمام عرب اور مسلمان ممالک کو فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت اولین ترجیحات میں شامل رکھنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی راہ اختیار کرکے بھی دیکھ لی مگر اس کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اب اسرائیل سے مذاکرات کا دور ختم ہوچکا ہے۔ فلسطینی عوام کو اپنی آزادی کے لیے متبادل راستے اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ عرب برادری کو فلسطینیوں کے حقوق کی کھل کر حمایت کرنی چاہیے۔
خالد العطیہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل سے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری کسی اور پرنہیں خود صہیونی ریاست پرعاید ہوتی ہے۔ اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور غیر لچک دار رویے کے نیتجے میں مذاکرات تعطل کا شکار ہوئےہیں۔ جب فلسطین میں غیرقانونی یہودی آباد کاری، بیت المقدس کو یہودیانے کی سازشیں اور معصوم فلسطینیوں کا قتل عام جاری رہے گا تو اسرائیل سے مذاکرات کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
قطری وزیر نے جنگ سے تباہ حال فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی می تعمیر نو میں زیادہ سے زیادہ امداد فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست سے انکار کرنے پراسرائیلی حکومت پر عالمی سطح پر پابندیاں عاید کی جانی چاہئیں۔ ایک ایسی فلسطینی ریاست جس میں مشرقی بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت قرار دیا جائے جو سنہ 1967 ء کی جنگ اور اس کے بعد قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں پر مشتمل ہو کو اقوام متحدہ بھی تسلیم کرتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
