مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق الشیخ راید صلاح نے جمعرات کے روز سامنے آنے والے اسرائیلی عدالت کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ قبلہ اول، بیت المقدس اور فلسطین کے لیے ہرقسم کی سزا منظور مگر صہیونیوں کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی عدالت کی طرف سے ہمیں خوف زدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ہم قبلہ اول کے لیے اپنی مساعی جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قبلہ اول کا دفاع صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ عرب دنیا اور تمام عالم اسلام کا ہے۔ قابض صہیونیوں کا انجام جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔
خیال رہے کہ جمعرات کے روز اسرائیل کی ایک مقامی عدالت نے اسلامی تحریک کے سربراہ الشیخ راید صلاح کو ان کی عدم موجودگی میں گیارہ ماہ قید بامشقت کی سزا کا حکم دیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دو سال پہلے بیت المقدس میں اپنی ایک تقریر کےدوران فلسطینیوں کو اسرائیل پر حملوں کے لیے اکسانے کی کوشش کی تھی۔
صہیونی عدالت کے اس ظالمانہ فیصلے پراپنے رد عمل میں الشیخ راید کا کہنا تھا کہ اسرائیلی عدالت کا فیصلہ غیر متوقع ہرگز نہیں تاہم یہ اپنی نوعیت کا نسل پرستانہ فیصلہ ہے جس میں مکمل طور پر جانب داری کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔
الشیخ رائد صلاح کا کہنا تھا کہ ہم دشمن کے سامنے کسی صورت میں سرنہیں جھکائیں گے۔ ہم حق پرہیں۔ انشاء اللہ حق پر ہی رہیں قائم رہیں گے۔ اسرائیلی جیلوں میں سراٹھا کرداخل ہوں گے، آزادانہ انداز میں قید کاٹیں گے اور آزاد ہی وہاں سے نکلیں گے۔ فتح آخر کار حق کی ہونے والی ہے اور زوال صہیونیوں کا مقدر ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
