اسرائیل کے عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹیلی ویژن چینل 10 سے وابستہ تجزیہ نگار زیپی یحزکیلی کا کہنا ہے کہ اردن کی جانب سے اپنی نصابی کتابوں میں شائع کیے گئے نقشوں میں اسرائیل کو شامل کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس اقدام کے بعد اسرائیل کے عرب ممالک میں فکری، ثقافتی، نفسیاتی اوردیگر حوالوں سے بھی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا موقع ملے گا۔ صہیونی تجزیہ نگار نے اردن کی جانب سے فلسطین کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو بھی نصابی کتابوں میں شامل کرنے کے اقدام کو ’’لرزہ خیز‘‘ قرار دیا۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی تجزیہ نگار نے انکشاف کیا کہ اردن نے حال ہی میں اپنے نصابی کتابوں کے نقشوں میں فلسطین کے ساتھ اسرائیل کا نقشہ شائع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کی جانب سے اس اقدام پر سخت احتجاج کا امکان ہے لیکن اردنی حکومت اپنے فیصلے میں تبدیلی نہیں کرے گی بلکہ اسے نافذ کرکے چھوڑے گی۔
اسرائیل کے ایک دوسرے تجزیہ نگار ڈاکٹر اوفیر فینٹور نے اردنی حکومت کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمان نے اسلام پسندوں کے نقطہ نظر کے برعکس ایک ایسا کام کردکھایا ہے جس کی خود اسرائیل کو بھی توقع نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ اردن کی جانب سے اسرائیل کو نصاب تعلیم کی کتابوں میں شامل کرنے کا مقصد صہیونی ریاست سے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی طرف اہم پیش رفت ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
