مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں افراتفری پھیلانے سے متعلق محمود عباس اور فلسطینی اتھارٹی کے انٹیلی جنس اداروں کی یہ اب تک کی سب سے خطرناک سازش ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ دستاویز 20 نومبر 2014 ء کو جاری کی گئی جس پرفلسطینی اتھارٹی کے ملٹری انٹیلی جنس چیف میجر جنرل ماجد فرج کے دستخط ثبت ہیں۔ بعد ازاں اس تجویز کو صدر محمود عباس کے سامنے بھی پیش کیا گیا تو انہوں نے بھی اس کی منظوری دے دی تھی۔
خفیہ دستاویز میں غزہ کی پٹی میں بدامنی پھیلانے کے لیے تین مراحل بیان کیے گئے ہیں۔
پہلا مرحلہ:
پہلے مرحلے میں غزہ کی پٹی میں عسکری کارروائیوں کے لیے خفیہ گروپوں کی تشکیل اور ان کی مدد سے غزہ میں آتش زدگی اور دھماکوں کے ذریعے امن وامان کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی مرحلے میں غزہ میں حماس کے اہم مراکز کو دھماکوں سے نشانہ بنانے کی تجویز بھی شامل کی گئی تھی تاکہ حماس کو خوف زدہ کیا جاسکے۔
تاہم اس میں پہلے مرحلے کی کارروائیوں میں فتح کے محمد دحلان کی قیادت میں سرگرم منحرف دھڑے کی جانب سے کسی سخت رد عمل کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ غزہ میں بدامنی کی صورت میں محمود عباس کے حامی فتحاوی گروپ کو دحلان کے منحرف لیڈر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
دوسرا مرحلہ:
دوسرے مرحلے میں سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر ان گروپوں کی جانب سے غزہ کی پٹی میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کا اعتراف کرایا جائے گا اور ان گروپوں کو خفیہ کے بجائے اعلانیہ کارروائیوں پر مامور کیا جائے گا۔ اس مرحلے میں فتح کی قیادت اور فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان غزہ کی پٹی مین بدامنی کے حوالے سے باقاعدہ بیانات جاری کریں گے اور غزہ کی پٹی میں فتحاوی حکومت کی عمل داری کےقیام کی ضرورت پر زور دیں گے۔
تیسرا مرحلہ:
تیسرے اور آخری مرحلے میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے غزہ کی پٹی میں اسلامی جہاد اور دیگر تنظیموں سے رابطوں کا فیصلہ کیا گیا تاکہ صورت حال کو قابو میں لانے کے لیے مقامی گروپوں کی فتح کو مدد فراہم کی جاسکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فتح کی جانب سے غزہ کی پٹی میں بدامنی پھیلانے سے متعلق تیار کردہ اس سازش پر عمل درآمد کی پوری کوشش کی گئی۔ غزہ میں پرتشدد کارروائیاں کی گئیں۔ اس کے علاوہ غزہ میں فتح کے منحرف گروپ کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی اور باغی رہ نمائوں کے مکانوں کےقریب بم دھماکے کرائے گئے۔ یہ بم دھماکے اسی سازش کا حصہ تھے اور ان کا مقصد حماس کو بدنام کرنا تھا۔
ان دھماکوں کے بعد غزہ میں حماس کی وزارت داخلہ کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا جس میں پرتشدد واقعات کی مذمت کرتے ہوئے اسے فتح کی منظم سازش قرار دیا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
