مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی تعمیر کردہ نسلی دیوار اور توسیع پسندی کا مظہر علامتی دیوار فاصل برلن کے سیاحتی مرکز کے باہر بنائی گئی جس پرا نگریزی عبارت میں برلن کے عوام کو اسرائیلی ریاستی مظالم سے آگاہ کرنے کے لئے مختلف نوعیت کے نعرے تحریر کیے گئے۔ علامتی دیوار پر’’صہیونی نسلی دیوار کے پیچھے سیاحت نہیں بلکہ فلسطین کی سیر کیجیے‘‘ کے نعرے تحریر کرکے شہریوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
علامتی دیوار فاصل کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کاوش کے ذریعے غیرملکی سیاحوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ اسرائیل کے بجائے فلسطین کی سیاحت پر جائیں اور یہ دیکھیں کہ اسرائیل نے یہودی کالونیوں کو تحفظ دینے کے لیے فلسطینی شہروں کو کس طرح کنکریٹ کی ایک مضبوط دیوار فاصل کے ذریعے ایک دوسرے سے جدا کر رکھا ہے۔ یوں یہ علامتی دیوار فاصل ایک طرف مغربی کنارے میں اسرائیل کی نسلی دیوار کا مظہر ہے اور ساتھ ہی اس کےذریعے صہیونی توسیع پسندی اور فلسطینیوں کی قیمتی اراضی کو غصب کرکے اسے یہودی آباد کاروں کو دینے کے مکروہ ہتھکنڈے کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔
برلن میں اسرائیل کی علامتی دیوار فاصل کے قیام کی قابل قدر مساعی کے ساتھ ساتھ وہاں پر مقیم فلسطینی شہریوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی بھی کامیاب مہمات چلائی ہیں۔ گذشتہ روز برلن میں فلسطینی تارکین وطن نے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جس میں فلسطین میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں خواتین پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی۔ مظاہرین نے برلن حکومت اور تمام یورپی ممالک کی توجہ فلسطین میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کی جانب مبذوب کراتے ہوئے ان سے فلسطینیوں پر مظالم بند کرانے کا مطالبہ کیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
