مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ جنگ میں خواتین سے متعلق ہونے والے نقصانات کی تفصیل فلسطینی وزیر برائے امور خواتین ھیفاء الآغا نے ایک سیمینار سے خطاب میں بتائیں۔ یہ سمینار آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقد کیا گیا جس میں فلسطینی خواتین اور ان کے معاشرے میں کردار اوران کی قربانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں خواتین کا عالم دن ایک ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب غزہ کی پٹی میں لاکھوں خواتین ایک کھلی جیل میں پابند سلاسل ہیں۔فلسطینی خواتین نہ صرف بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں بلکہ اسرائیلی درندے بار بارغزہ پر جنگیں مسلط کر کے مائوں، بہنوں اور بیٹوں کو جانوں سے مارنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ نہتی خواتین کو حراست میں لینے کے بعد ان سے غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود عالمی سطح پرخواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔
فلسطینی خاتون وزیر کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کی خواتین مشکلات کے باوجود زندگی کے ہر شعبے میں بہترین خدمات انجام دینے کی اہلیت اور صلاحیت سے بہرہ ور ہیں۔ خواتین نے معاشرتی اور عایلی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ حکومتی مناصب پر خود کو کامیاب و کامران ثابت کیا ہے۔
ھیفا الاغا کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ معاشی پابندیوں اور ناکہ بندی کے باعث فلسطینی خواتین کو سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔ انہیں نفسیاتی، مادی اور معنوی اعتبار سے سہارا دینے کی اشدت ضرورت ہے کیونکہ فلسطینی خواتین ہی اس وقت اپنے بچوں کو موجودہ مشکلات سے نکالنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں۔
سیمینار میں خان یونس بلدیہ کے چیئرمین یحیٰ الاسطل نے بھی خواتین کی قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ صبرو ایثار کا جو مظاہرہ فلسطینی خواتین کرتی ہیں وہ کسی دوسری قوم کی خواتین کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صہیونی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں آئے روزاپنے گھروں سے جنازے اٹھاتے ہیں۔ایسے میں فلسطینی خواتین کا حوصلہ قابل قدر اور لائق تحسین ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
