فلسطین کے ایک مقامی انسانی حقوق گروپ ’’اسیران اسٹڈی سینٹر‘‘ کی جانب سے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں 20 خواتین صہیونی تفتیش کاروں کی مسلسل درندگی کا سامنا کر رہی ہیں۔ عقوبت خانوں میں پابند سلاسل خواتین کو ادنیٰ درجے کے انسانی حقوق بھی حاصل نہیں ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیرحراست تمام فلسطینی خواتین کو بدنام زمانہ اسرائیلی جیل ’’ھشارون‘‘ کی کال کوٹھڑیوں میں ڈالا گیا ہے۔ اسیرات سے ان کے عزیزو اقارب سے ملاقات پر بھی پابندی ہے۔ ان میں سے بعض شیر خوار بچوں کی مائیں ہیں جن سے ان کے بچے بھی چھین لیے گئے ہیں۔
مرکزاحرار کی رپورٹ کے مطابق چالیس سالہ لینا الجربونی 18 اپریل 2002 ء کے بعد سے پابند سلاسل ہیں اور انہیں 17 سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔
بیت المقدس کی 17 سالہ دیما محمد علی السواحرہ ، شیریں العیساوی اور الخلیل کی 35 سالہ دینا ضرار عیسیٰ واکد، بیت لحم کی 16 سالہ بثرب صلاح ریان، جنین کی 42 سالہ منا حسین عوض قعدان، 31 سالہ یاسمین تیسیر عبدالرحمان شعبان، 21 سالہ یمان عمارنہ، نابلس کی 23 سالہ وئام سمیح محمد جابر عصیدہ، 28 سالہ فریدہ عبدالطیف، 35 سالہ سماھر سلیمان علی زین الدین، جامعہ بیرزیت کی طالبہ 18 سالہ لینا محمد عما خطاب، 24 سالہ ھنیہ منیر علی ناصر، 21 سالہ ثریا کمال بزار، 22 سالہ فداء محمدخضر سلیمان، 20 سالہ بشریٰ جمال الطویل، الخلیل کی 39 سالہ نھیل طلال رضوان ابو عیشہ، 22 سالہ احسان حسن عبدالفتاح دبابسہ اور 21 سالہ امل طقاطقہ صہیونی جیل میں بدترین مظالم کا سامنا کررہی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
