اسرائیل کے عبرانی اخبار ’’ہارٹز‘‘ نے اپنی تازہ اشاعت میں شائع رپورٹ میں بتایا ہےکہ فوج کی سینٹرل کمانڈ کے جنرل نیٹسن الون نے کوئی ڈیڑھ مہینہ قبل وادی اردن کو ’’فائر بندی ریجن 912 ‘‘ میں شامل کرنے کی منظوری دی۔ اس فیصلے کا مقصد وادی اردن کو یہودی کالونی ’’معالیہ ادومیم‘‘ میں ضم کرنا اور وہاں پر فوجی تنصیبات اور مزید یہودی کالونیاں قائم کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب تک وادی اردن کےعلاقے کو اسرائیلی فوج جنگی مشقوں کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ’’نو گو ایریاز‘‘ بھی قرار دیا جاتا رہا ہے۔ وادی اردن کو یہودی کالونی میں ضم کرنے کا مقصد معالیہ ادومیم کو مزید وسعت دیتے ہوئے مشرق میں بحر مردار اور جنوب میں ام درج تک وسیع کرنا ہے۔ وادی اردن کے اس حصے میں پہلے ہی اسرائیلی فوج کے کئی کیمپ اور چھائونیاں موجود ہیں۔ انہی میں ’’النبی موسیٰ‘‘ چھائونی سب سے اہم اور حساس مقام سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سینٹرل کمانڈ کی جانب سے وادی اردن کو 18 جنوری کو معالیہ ادومیم میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ ابھی تک اس کا ڈییجیٹل نقشہ جاری نہیں کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ علاقے کے کل رقبے کا غیر واضح ہونا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وادی اردن کو معالیہ ادومیم کالونی میں ضم کیے جانے کےبعد مارچ 2013 ء میں منظور کیے گئے 88 مکانات کی تعمیر یہاں پرہی کی جائے گی اور اسے باقاعدہ ’’نوفی ادومیم‘‘ کالونی کا نام دیا گیا ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے وادی اردن کو معالیہ ادومیم میں ضم کرنے کا اعلان کرنے کے بعد وادی میں فلسطینیوں کے اکا دکا مکانات کو مسمار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس علاقے میں فلسطینیوں کو مزید مکانات کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ ہزاروں فلسطینیوں کی جانب سے مکانات کی تعمیر کے لیے دی گئی درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
