قطر کے اخبار’’الشرق‘‘ کے چیف ایڈیٹر اپنے ایک ٹویٹر اکائونٹ پر پوسٹ بیان میں بتایا ہے کہ حماس رہ نما خالد مشعل کو سعودی عرب کی جانب سے دورے کی دعوت دینے کی خبریں کافی حد تک درست ہیں۔ امکان ہے کہ مشعل جلد ہی ریاض کا خصوصی دورہ کریں گے۔
ایک مصری صحافی احمد الشرقاوی نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں بھی سعودی عرب کی جانب سے خالد مشعل کو دورہ ریاض کی دعوت کی اطلاع ملی ہے۔ خالد مشعل جلد ہی سعودی عرب جائیں گے۔ اگر یہ خبر درست ہے تو خطے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے امکانات بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات کے بعد سعودی وزارت خارجہ خاموش ہے۔ اس کی جانب سے تردید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر شہریوں اور ذمہ دار شخصیات کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے حماس رہ نما کو دورے کی دعوت دینے کی تردید نہ کرنا اس امر کا اشارہ ہے کہ خالد مشعل کو دعوت دی گئی ہے۔
فلسطینی تجزیہ نگار ھامی البسوس نے مرکزاطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہت سی ایسی وجوہ موجود ہیں جن کی بنیاد پر حماس رہ نما کا سعودی عرب کا دورہ بنتا ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب کی جانب سے خالد مشعل کو دورے کی دعوت دی گئی ہے تو لازما مشعل یہ دعوت قبول کریں گے اور کم سے کم وقت میں ریاض پہنچیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ شاہ سلمان اپنے پیشرو شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی نسبت فلسطین کے بارے میں مختلف نظریہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب جلد ہی حماس کو فلسطین کے سیاسی نظام کے اہم ترین جزو کے طور پر قبول کرے لے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
