مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق یہودی پولیس کی بڑی تعداد نے بیت المقدس میں راس العامود کے مقام پر فلسطینی نوجوان محمد سلامہ کے گھر کا گھیرائو کیا۔ کئی گھنٹے گھیرائو کے دوران گھر کے چپے چپے کی تلاشی لی گئی۔
محمد سلامہ کے چچا زاد غسان السلایمہ نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ صہیونی پولیس نے گھر کی تلاشی لیتے ہوئے ہر چیز الٹ پلٹ کر دی۔ حتیٰ کہ الماریوں میں رکھے کپڑوں تک کی تلاشی لی گئی۔ تلاشی کی کارروائی کے دوران محمد کے اہل خانہ کو قطار میں ایک سڑک پر کھڑا کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد اس کے والد محمد محمود السلائمہ، بھائی رامی السلامہ اور متعدد دیگر افراد کو المسکوبیہ حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا جبکہ حملہ آور محمد السلائمہ کو پہلے ہی زخمی حالت میں حراست میں لیا گیا ہے۔ صہیونی پولیس کی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ سلامہ خاندان کا کسی سیاسی یا مزاحمتی تنظیم کے ساتھ تعلق ثابت نہیں ہوسکا ہے۔
خیال رہے کہ جمعہ کو علی الصباح بیت المقدس میں ایک فلسطینی نوجوان نےاپنی کار یہودی بارڈر فورسز کے ہیڈ کواٹر کے سامنے کھڑی خواتین پولیس اہلکاروں پر چڑھا دی تھی جس کے نتیجے میں کم سے کم چار خواتین اہلکاروں سمیت سات افراد زخمی ہو گئے تھے۔ صہیونی پولیس نے فائرنگ کرکے کار ڈرائیور کو بھی شدید زخمی کر دیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
