مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم’’مرکز احرار برائے انسانی حقوق‘‘ نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم’’اطباء بلا حدود‘‘ اور اسرائیلی کنیسٹ کے عرب ارکان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ 31 سالہ اسیر ابراہیم الجمال کی زندگی بچانے کے لیے فوری مداخلت کریں کیونکہ دوران حراست وہ بینائی اور گویائی دونوں سے محروم ہوچکا ہے۔
انسانی حقوق کی مقامی تنظیم نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں اسرائیل کی ’’ایچل جیل‘‘ کے ترجمان معمر شحرور کے ایک بیان کے حوالے سے بتایا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے الخلیل شہر میں العروب پناہ گزین کیمپ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی ابراہیم الجمال کو دوران حراست اچانک زبان کا فالج ہوا اور اس کے بعد ان کی بینائی بھی چلی گئی۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ابراہیم کو لاحق ہونے والا عارضہ صہیونی حکام کے مظالم اور لاپرواہی کا نتیجہ ہے کیونکہ اسیر کئی ماہ سے سخت بیمار تھے اور اس کی جان بچانے کے لیے پہلے بھی متعدد مرتبہ صہیونی حکام سے مدد کے مطالبات کیے جاتے رہے ہیں مگر ان کے مطالبات کو نظرانداز کیا گیا جس کےنتیجے میں آج وہ بینائی اور گویائی سے محروم ہو گیا ہے۔
اسیر کی اہلیہ ام محمد نے بتایا کہ ہم نے ایچل جیل میں الجمال سے ملاقات کی۔ وہ ایک لفظ تک بولنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور نہ ہی کسی کودیکھ کر پہنچا سکتا ہے۔ انہوں ںے بتایا کہ الجمال کو حال ہی میں اچانک بے ہوشی کا ایک دورہ پڑا تھا جس کے بعد اس کی بینائی اور گویائی دونوں چلی گئیں۔اب اسے جیل کے زیرانتظام ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے لیکن اسے کسی قسم کے علاج کی سہولت نہیں دی گئی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے ڈائریکٹر فواد الخفش کا کہنا ہے کہ ابراہیم الجمال کو صہیونی حکام نے 17 ستمبر 2014 ء کو حراست میں لیا تھا۔ وہ ایک خطرناک اعصابی بیماری کا شکار تھے۔ گرفتاری اور جیل منتقلی کے بعد ان کی بیماری میں مزید شدت آ گئی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
