مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق بیت المقدس کی الشیخ جراح کالونی میں واقع مکان کو خالی کرانے کے لیے شمسانہ خاندان پر صہیونی حکام اور انتہا پسند یہودی گروپوں کا سخت دبائو ہے۔ ان کی جانب سے اہل خانہ کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
خیال رہے کہ دو کمروں کے اس چھوٹے سے فلیٹ میں 86 سالہ الحاج ایوب شمسانہ اور ان کی 74 سالہ اہلیہ اپنے بیٹے محمد اور اس کی چھ بچوں کے ہمراہ رہ رہے ہیں۔ ایوب شمسانہ نے یہ مکان سنہ 1964 ء میں تعمیر کیا تھا اور صہیونی حکام اسے غیرقانونی قرار دے کر خالی کرنے کے باربار نوٹسز جاری کر رہے ہیں۔
محمد شمسانہ نے میڈیا کو بتایا کہ سنہ 2013 ء میں اسرائیل کی سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں حکم دیا تھا کہ ہم مکان یکم مارچ 2015 ء تک خالی کردیں تاکہ اسے یہودی آباد کاروں کو فراہم کیا جا سکے۔
گذشتہ جمعرات کو امریکی عدالت کے ایک وکیل کی جانب سے انہیں نوٹس بھجوایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہم فوری طورپر عدالت کے اس حکم پرعمل درآمد کرتے ہوئے مکان خالی کر دیں ورنہ ہمیں طاقت کے ذریعے وہاں سے نکال دیا جائے گا۔
محمد نے بتایا کہ صہیونی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ سنہ 1948 ء سے اس مکان کے مالک ہیں کیونکہ یہ مکان ایک یہودی سیکیورٹی اہلکار کا تھا جو اس وقت اردنی فوج میں شامل تھا تاہم بعد ازاں تمام اردنی فوجیوں کی املاک اسرائیل کی ملکیت قراردی گئی تھیں۔
صہیونی حکام نے سنہ 1967 ء کی جنگ میں بیت المقدس پرقبضے کے بعد اس مکان کو متروکہ املاک میں شامل کیا تھا حالانکہ مکان خالی نہیں تھا بلکہ اس میں میرے والدین رہ رہے تھے۔ سنہ 1968 ء میں یہ مکان کرائے پر حاصل کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ سنہ 2008 ء میں صہیونی حکام کی جانب سے کہا گیا کہ کرائے کی مدت اب ختم ہوگئی ہے لہٰذا اس مکان کو فوری طور پر خالی کر دیا جائے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
