بیت المقدس سے مقامی ذرائع نے بتایا کہ یہودی شرپسندوں کی جانب سے جمعرات کو علی الصباح ’’رقادہ السیدہ‘‘ نامی ایک چرچ کو آگ لگائی۔ آگ لگنے سے چرچ کا ایک بڑا حصہ اور اس میں موجود کتابیں جل کر خاکستر ہوگئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہودی شرپسندوں کی جانب سے آگ لگانے سے قبل چرچ کی بیرونی دیواروں پر نسل پرستانہ اور مسیحی برادری کے خلاف انتقامی نوعیت کے نعرے بھی لکھے جس کے بعد تیل چھڑک کر چرچ کو آگ لگا دی۔
فائربریگیڈ اور ریسکیوٹیموں کے پہنچنے سے قبل چرچ کا ایک بڑا حصہ جل کرخاکسترہوگیا تھا۔ تاہم امدادی کارکنوں نے خود کو خطرے میں ڈال کر آگ پرقابو پالیا۔
چرچ کے ایک ذریعے نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ آگ لگنے سے چرچ سے متصل درسگاہ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس درسگاہ میں الاہوتی یونانی مسیحی تعلیمات دی جاتی تھیں۔ آگ لگنے سے چرچ میں عیسائی پادریوں کی ایک بیٹھک کو بھی نقصان پہنچا۔
داریں اثناء فلسطین میں مسیحی نیشنل سوسائیٹی کے سیکرٹری جنرل ڈیمٹری دلیانی نے چرچ کوآگ لگانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست نے اپنے ہاں انتہا پسندوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے وہ جب چاہتے ہیں اپنے مخالف مذاہب کی عبادت گاہوں کو آگ لگا دیتے ہیں یا ان کی کھلے عام بے حرمتی کا ارتکاب کرتے ہں۔
مسٹر دلیانی کا کہنا تھا کہ صہیونی وزیراعظم نیتن یاھو اور ان کی حکومت فلسطین میں چرچ اور مساجد کو نذرآتش کیے جانے کے ذمہ دار ہیں۔ چوبیس گھنٹے میں عبادت گاہوں کو آگ لگانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ ایک روز قبل مغربی کنارے میں یہودی شرپسندوں نے ایک مسجد کو آگ لگا دی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
