• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

طویل مقدمہ بازی کے بعد فلسطینی دانشور امریکا سے بے دخل

اتوار 08-02-2015
in فلسطین
0
plf deported-from-usa
0
SHARES
0
VIEWS

امریکی حکومت نے سات سال تک عدالتی کارروائیوں کے بعد ایک فلسطینی رہ نما ڈاکٹر سامی العریان کو فلسطینی مزاحمتی تنظیم "اسلامی جہاد” کی معاونت کے الزام میں‌ امریکا سے بے دخل کردیا ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق امریکی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر العریان جو کہ امریکی ریاست فلوریڈا کی ایک یونیورسٹی کے سابق استاد ہیں کو بدھ کے روز ملک سے نکال دیا گیا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی دانشور کو ورجینیا کے ڈالاس بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ایک کارگو طیارے کے لیے ملک سے نکال دیا۔

ڈاکٹر سامی العربیا کی خاتون وکیل جونتھن تورلی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ڈاکٹر العریان امریکا سے بے دخلی کے بعد ترکی چلے گئے ہیں۔

دوسری جانب ڈاکٹر العریان نے انٹرنیٹ پر پوسٹ کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ میں نے امریکا میں اپنا مقدمہ پوری جرات اور بہادری کے ساتھ لڑا لیکن اس کے باوجود مجھے وہاں سے بے دخل کیا گیا۔

قانونی چارہ جوئی کے دوران مجھے اور میرے خاندان کو طرح طرح کی مشکلات اور آزمائشوں میں ڈالا گیا لیکن مجھے ان تلخیوں کا کوئی شکوہ نہیں اور نہ ہی امریکا چھوڑنے پر میں ‌مایوس ہوں ۔

خیال رہے کہ امریکی حکومت نے فلسطینی دانشور ڈاکٹر سامی العریان پر قومی سلامتی کے ایشوز کے تحت ایک مقدمہ قائم کیا تھا جس میں الزام عاید کیا گی اتھا کہ انہوں ‌نے سنہ 2003ء میں فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد کے ساتھ معاونت کی تھی۔ مقدمہ چلائے جانے سے قبل وہ امریکی ریاست فلوریڈا میں قائم ساوتھ یونیورسٹی میں‌ کمپیوٹر سائنس کے استاد تھے۔ انہیں سنہ 2006ء‌ میں امریکا سے بے دخلی کا فیصلہ کیا گیا تاہم بعد میں امریکی پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے انہیں مزید قانونی چارہ جوئی کی اجازت بھی دے دی تھی۔ انہوں ‌نے مزید سات سال قانونی جنگ لڑی جس کے بعد انہیں امریکا سے بے دخل کردیا گیا۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.