مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق او آئی سی کا ایک اعلٰی اختیاراتی وفد جمعہ کے روز یورپی ملک ناروے پہنچا ہے جہاں وفد نے ناروے کی قیادت سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے بعد میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ بدترین حالات کا سامنا کررہی ہے۔ ایسے حالات میں قبلہ اول کو یہودیوں کے حملوں سے بچانا عالم اسلام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ او آئی سی کے وفد کا دورہ صرف ناروے تک محدود نہیں بلکہ وہ یورپ اور دنیا کے کئی دوسرے ممالک کی قیادت سے بھی ملاقاتوں کے ایک ہمہ گیر پروگرام کو آگے لے کر چل رہے ہیں جس کا مقصد مسئلہ فلسطین کے لیے عالمی برادری کی زیادہ سے زیادہ حمایت کا حصول ممکن بنانا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "او آئی سی” کے وفد کی قیادت مصری وزیرخارجہ سامح شکری کررہے ہیں۔ انہوں نے جمعہ کے روز ناروے کے اپنے ہم منصب بورگ برینڈہ سے سمیت کئی دوسرے رہ نماوں سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی، گینیا کے وزیرخارجہ لون سونی، اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ایاد امین مدنی اور آذربائیجان کی وزارت خارجہ کے خصوصی ایلچی بھی موجود تھے۔
وفد نے ناروے کی حکومت کو فلسطین میں اسرائیلی فوج کے منظم ریاستی مظالم کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پون صدی کے عرصے سے اسرائیل کی حکومتوں نے فلسطینیوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ فلسطینیوں کی اب چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہے لیکن وہ مسلسل خوف اور محرومی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے نہ صرف فلسطینی علاقوں میں یہودی توسیع پسندی کا سلسلہ جاری ہے بلکہ فلسطینیوں کو ان کے گھر بار چھوڑنے پر اب بھی مجبور کیا جاتا ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں چھ لاکھ سے زاید یہودی آباد کیے گے ہیں۔ دیوار فاصل اور یہودی کالونیوں کی تعمیر کے نتیجے میں غرب اردن کا جغرافیائی نقشہ بھی تبدیل کردیا گیا ہے۔
وفد نے اپنے بیان میں عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کو پنجہ یہود سے آزاد کے لیے کوششیں تیز کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ قبلہ اول اپنی تاریخ کے نہایت نازک دور سے گذر رہا ہے۔ قبلہ اول کو جتنے خطرات اب لاحق ہیں ماضی میں کبھی نہیں رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
