مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بیلجیم کے وزیرخارجہ ڈیڈیہ رینڈیرس نے اپنے ایک بیان میں مشرقی بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے میں صہیونی حکومت کی طرف سے مزید 450 مکانات کی تعمیر کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خلاف قانون قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بیلجیم کو اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاروں کے لیے مزید سیکڑوں مکانات کی تعمیر کے اعلان پر گہری تشویش ہے اور وہ اس کی کھل کر مذمت کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت نے گذشتہ ماہ کے آخر میں بیت المقدس میں 93 اور مغربی کنارے میں تین سو سے زاید مکانات کی تعمیر کا اعلان کیا تھا جس پرعالمی سطح پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔
بیلجیم کے وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے یک طرفہ اقدامات سے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی مساعی کو مزید دھچکا لگے گا اور یورپی یونین اور دیگر ممالک کی طرف سے مسئلے کے دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔
انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ توسیع پسندی کے غیرقانونی ہتھکنڈوں کے بجائے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ بات چیت کی راہ اپنائے اور آئندہ کے لیے مزید یہودی بسیتوں کی تعمیر کا سلسلہ مستقل طور پر بند کردے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلیجیم 1967ء کی جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے علاقوں میں اسرائیل کی سرگرمیوں کا مخالف ہے اور ان علاقوں میں فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا رہے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
