مسجد اقصیٰ پر یہودی شدت پسندوں کی یلغار رواں سال میں بھی بدستور جاری ہے۔ گذشتہ ماہ جنوری میں 965 یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مذہبی رسومات کی ادائی کی آڑ میں مقدس مقام کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوری دو ہزار پندرہ کے دوران روز مرہ کی بنیاد پر یہودی آباد کار قبلہ اول پر دھاوا بولتے اور مقدس مقام کی بے حرمتی کرتے رہے ہیں۔ اس دوران صہیونی حکام نے 25 فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ سے بے دخل کیا اور ان کے قبلہ اول میں داخلے پر 15 سے 60 روز کی پابندی عاید کی۔
اسرائیلی فوج اور پولیس کی جانب سے قبلہ اول کی حفاظت کے لیے آنے والے فلسطینیوں کا تعاقب بھی جاری رہا۔ صہیونی حکومت کی جانب سے قبلہ اول کے حفاظت کے لیے سرگرم ادارے "الفجر فائونڈیشن” پرپابندی عاید کی گئی۔ مسلمان برائے دفاع اقصیٰ نامی ایک تنظیم کو بھی اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون کی ہدایت پر کالعدم قرار دے کر اس کے دفاتر کو بھی سیل کردیا گیا۔
ادھر اسرائیل میں جاری انتخابی مہم بھی مسجد اقصیٰ یہودی سیاسی جماعتوں کا خاص موضوع رہی اور مسجد اقصیٰ جگہ مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے دعوئوں کو لے کر یہودی سیاست دان ووٹ مانگتے دکھائی دیے۔ سیاسی جماعتوں کی کامیابی کے لیے ان کے حامی یہودی کارکن خصوصی دعائوں اور مناجات کے لیے بھی قبلہ اول میں داخل ہوتے اور دیوار گریہ کے پاس کھڑے ہو کر اپنی پسندیدہ جماعتوں کی کامیابی کے لیے دعائیں کرتے رہے۔
جنوری میں اسرائیلی رکن کنیسٹ لیکوڈ کے رکن میری ریگیو،جیوش ہوم کے ایلی بن دھان اور دیگر یہودی شدت پسند سیاسی جماعتوں کے رہ نمائوں کو قبلہ اول میں داخل ہو کر یہودیوں کے ساتھ مقدس مقام پر ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے وعدے کردے بھی دیکھا گیا۔
جنوری ہی میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کو اپنے سرکاری لینڈ ریکارڈ میں رجسٹرڈ کررکھا ہے جہاں ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کو ہیکل سلیمانی ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
جنوری 2015ء کے دوران سرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی نام نہاد سیکیورٹی کے نام پر 180 ملین امریکی ڈالر کے مساوی رقم مختص کرنے کا بھی اعلان کیا جو پیش آئند برسوں کے دوران مسجد اقصیٰ کے آس پاس یہودی توسیع پسندی کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوری دو ہزار پندرہ کے دوران روز مرہ کی بنیاد پر یہودی آباد کار قبلہ اول پر دھاوا بولتے اور مقدس مقام کی بے حرمتی کرتے رہے ہیں۔ اس دوران صہیونی حکام نے 25 فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ سے بے دخل کیا اور ان کے قبلہ اول میں داخلے پر 15 سے 60 روز کی پابندی عاید کی۔
اسرائیلی فوج اور پولیس کی جانب سے قبلہ اول کی حفاظت کے لیے آنے والے فلسطینیوں کا تعاقب بھی جاری رہا۔ صہیونی حکومت کی جانب سے قبلہ اول کے حفاظت کے لیے سرگرم ادارے "الفجر فائونڈیشن” پرپابندی عاید کی گئی۔ مسلمان برائے دفاع اقصیٰ نامی ایک تنظیم کو بھی اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون کی ہدایت پر کالعدم قرار دے کر اس کے دفاتر کو بھی سیل کردیا گیا۔
ادھر اسرائیل میں جاری انتخابی مہم بھی مسجد اقصیٰ یہودی سیاسی جماعتوں کا خاص موضوع رہی اور مسجد اقصیٰ جگہ مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے دعوئوں کو لے کر یہودی سیاست دان ووٹ مانگتے دکھائی دیے۔ سیاسی جماعتوں کی کامیابی کے لیے ان کے حامی یہودی کارکن خصوصی دعائوں اور مناجات کے لیے بھی قبلہ اول میں داخل ہوتے اور دیوار گریہ کے پاس کھڑے ہو کر اپنی پسندیدہ جماعتوں کی کامیابی کے لیے دعائیں کرتے رہے۔
جنوری میں اسرائیلی رکن کنیسٹ لیکوڈ کے رکن میری ریگیو،جیوش ہوم کے ایلی بن دھان اور دیگر یہودی شدت پسند سیاسی جماعتوں کے رہ نمائوں کو قبلہ اول میں داخل ہو کر یہودیوں کے ساتھ مقدس مقام پر ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے وعدے کردے بھی دیکھا گیا۔
جنوری ہی میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کو اپنے سرکاری لینڈ ریکارڈ میں رجسٹرڈ کررکھا ہے جہاں ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کو ہیکل سلیمانی ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
جنوری 2015ء کے دوران سرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی نام نہاد سیکیورٹی کے نام پر 180 ملین امریکی ڈالر کے مساوی رقم مختص کرنے کا بھی اعلان کیا جو پیش آئند برسوں کے دوران مسجد اقصیٰ کے آس پاس یہودی توسیع پسندی کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
