"وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر” کی رپورٹ کے مطابق صہیونی فوج نے بیت المقدس کے سلوان اور الطور قصبوں میں فلسطینی شہریوں کے گھروں کی تلاشی کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران صہیونی فوج نے بیت المقدس میں اسکولوں سے نکلنے والے طلباء کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور کارروائی کے دوران تین طلباء کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے ذرائع کے مطابق صہیونی فوج کے وحشیانہ کریک ڈاون اور اسکول کے بچوں کو تشدد کے بعد حراست میں لینے کے واقعے کے رد عمل میں فلسطینی شہریوں نے سخت احتجاج کیا۔ وادی سلوان میں فلسطینی شہریوں کے احتجاجی مظاہرے پر بھی قابض فوج نے لاٹھیاں برسائیں اور انہیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کی شیلنگ کی۔ مشتعل مظاہرین نے صہیونی فوجیوں پر سنگ باری کی۔ اسرائیلی فوجیوں نے ایک 10 سالہ بچے کو حراست میں لینے کی کوشش کی تاہم فلسطینی مظاہرین کے احتجاج کے باعث بچے کی گرفتاری کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ قابض فوج نے کارروائی کرکے 22 سالہ محمد یاسر ابوالھویٰ اور اکیس سالہ محمود ابو جمعہ کو حراست میں لے لیا۔
انسانی حقوق کی تنظیم "ضمیر” کے مندوب محمد محمود نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے اسکول پر حملہ کرکے دو کم عمر بچوں کو حراست میں لیا جن کی شناخت یزن الاعور اور عبداللہ الصیام کے ناموں سے ہوئی ہے۔ دونوں کا تعلق بیت المقدس کے سلوان قصبے سے ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
