مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسامہ حمدان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ مصر کی ثالثی کے تحت طے پائے جنگ بندی معاہدے میں غزہ کی تمام گذرگاہیں کھولنے اور جنگ سے تباہ حال علاقوں کی فوری تعمیر نو کے لیے ہرممکن سہولیات کی فراہمی پر اتفاق ہوا تھا مگر اس کے باوجود نہ تو غزہ کی راہداریاں کھولی گئی ہیں اور نہ ہی تعمیر نو کا کام شروع کیا گیا ہے۔
اسامہ حمدان نے فلسطین کی قومی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مخلوط قومی حکومت عوام کی امنگوں کی ترجمانی نہیں کرسکی ہے۔ عوام کے مسائل بالخصوص غزہ کی پٹی میں انسانی بحران کو ختم کرنے میں قومی حکومت بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین میں کسی فرد واحد کی اجارہ داری قبول نہیں کی جائے گی۔ فلسطینی قومی حکومت صدر محمود عباس کے ہاتھ کی چھڑی بن کر رہ گئی ہے جو خود سے کوئی فیصلہ کرنے میں خود مختار نہیں بلکہ صدر عباس کی ڈکٹیشن پر چلتی ہے۔
تحریک فتح کی صفوں میں پائے جانے والے اختلافات کے بارے میں اسامہ حمدان نے کہا کہ فتح میں اختلافات جماعت کا اندرونی معاملہ ہے۔ حماس کا اس کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
