مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر الزھار نے کہا کہ آئینی طور پر فلسطینی حکومت کو پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا تھا مگر کئی ماہ گذر جانے کے باوجود صدر نے پارلیمنٹ کا اجلاس ہی طلب نہیں کیا ہے۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ صدر محمود عباس پارلیمنٹ کو اس کا آئینی اور قانونی کام کرنے کی اجازت دینےسے خائف ہیں۔ وہ پارلیمنٹ کا اجلاس منعقد کرنے میں مسلسل تاخیر سے کام لے رہے ہیں تاکہ اپنے آمرانہ فیصلوں کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔
ڈاکٹر الزھار کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے تمام اراکین نے صدر عباس کے یک طرفہ اقدامات کو مسترد کردیا ہے۔ خاص طور پر فلسطینی قومی حکومت کی جانب سے قومی مفاہمت کے معاہدے کی شرائط سے انحراف کے بعد پارلیمنٹ اب موجودہ حکومت کی حمایت نہیں کررہی ہے۔
خیال رہے کہ ایک ہفتہ پیشتر غزہ کی پٹی میں فلسطینی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نے پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن صدر محمود عباس کی جانب سے اس کی توثیق نہیں کی گئی۔ فلسطینی پارلیمنٹ کی آئینی کارروائی پچھلے سات ماہ سے مسلسل معطل ہے جس کے نتیجے میں سیاسی حلقوں میں سخت بے چینی پائی جا رہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
