مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق کینیڈین وزیرخارجہ کی اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کی حمایت پر مبنی پالیسی کے خلاف سیکڑوں فلسطینیوں نے رام اللہ میں اس وقت وزیرخارجہ کے خلاف مظاہرہ کیا جب وہ اپنے فلسطینی ہم منصب سے ملاقات کے لیے آئے۔ ذرائع کے مطابق جب ان کا قافلہ رام اللہ میں داخل ہوا تو نقاب پوش سیکڑوں نوجوانوں نے ان کے قافلے پر گنڈے انڈے اور ٹماٹر برسائے اور ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
ذرائع کے مطابق مظاہرین نے رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر کے باہر کینیڈین وزیرخارجہ جون بیرڈ کی اپنے فلسطینی ہم منصب ریاض المالکی سے ملاقات کے دوران بھی شہریوں نے احتجاج جاری رکھا اور ان کی واپسی کے بعد احتجاج ختم کیا گیا۔
خیال رہے کہ کینیڈا کی حکومت فلسطینی ریاست کے حوالے سے اسرائیل کے موقف کی حمایت کرتی رہی ہے، جس پر فلسطینی عوام میں کینیڈین حکام کے حوالے سے سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔ اس کا اظہار فلسطینی شہریوں نے گذشتہ روز رام اللہ میں اپنے احتجاجی مظاہرےمیں بھی کیا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین وزیرخارجہ نے بیت المقدس میں صہیونی حکام سے ملاقات کی تھی۔ وہ ملاقات کے بعد رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کےعہدیداروں سے ملنے آئے تھے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’کینیڈا کی طرف سے صہیونی ریاستی دہشت گردی‘‘ کی حمایت کے خلاف سخت الفاظ میں نعرے درج تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
