مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بان کی مون کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ باضابطہ طورپر فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے معاہدہ روم کا حصہ بن جانے کے لیے فلسطین کو جنگی جرائم کی تحقیقات کا حق مل جائے گا۔
خیال رہے کہ فلسطین کو عالمی عدالت انصاف میں شامل کیے جانے کے بعد معصوم فلسطینی قوم کےخلاف صہیونی ریاست کے جنگی جرائم کی تحقیقات کی راہ ہموار ہوگی اور فلسطینی اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے کارروائی شروع کریں سکیں گے۔
یو این سیکرٹری جنر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے دی گئی درخواست پر عمل درآمد کرتے ہوئے فلسطین کو آئی سی سی کا رکن بنانے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ اپریل 2015 ء کےاوائل میں فلسطینیوں کو آئی سی سی میں رکنیت مل جائے گی۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے 31 دسمبر 2014 ء کو عالمی سلامتی کونسل میں آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے دی گئی درخواست کی ناکامی کے بعد عالمی عدالت انصاف میں شامل ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کے ایک مندوب راجی الصورانی کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ معاہدہ روم کا حصہ بن جائے۔ اس کے بعد جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے درخواست اور کارروائی سمیت تمام امور انسانی حقوق کی تنظیمیں دیکھیں گی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الصورانی کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف میں بلا تاخیر اسرائیل کے جنگی جرائم کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
