مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق وادی اردن کا شمالی علاقہ صہیونی فوج کی ظالمانہ اور استعماری کاررائیوں کا خاص طور پر ہدف رہا جہاں سال 2014ء کے دوران دو فلسطینی کسانوں کی 13 ایکڑ اراضی قبضے میں لینے کے بعد ان میں یہودی فوجیوں کے لیے تعمیرات کی گئیں اور فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
گذشتہ برس اسرائیلی حکومت اور یہودی آباد کاروں کی کارروائیوں میں المالح میں فلسطینی شہریوں کے پینے کے پانی کے کئی کنووں، پانی کے ٹینکوں، خیموں، بھیڑ بکریوں، مکانوں، چار گاڑیاں اور درجنوں گائے اور بیل فلسطینیوں سے چھین لیے گئے تاکہ مقامی فلسطینی شہری مظالم سے تنگ آکر علاقے خالی کردیں۔
رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس صہیونی فوج کی جانب سے فلسطینی شہریوں کی اراضی کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا اور فوجیوں نے شمالی وادی اردن میں سیکڑوں اراضی اراضی کو فوجی چھائیوں کی توسیع کے لیے قبضے میں لینے کے بعد غریب فلسطینیوں کو زرعی اراضی سے محروم کردیا۔
ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس الساکوت کے مقام پر اسرائیلی فوج نے 30 ہزار دونم اراضی کو فوجی مقاصد کے لیے فلسطینیوں سے غصب کیا۔ یہودی آباد کاروں کی طرف سے غصب کی گئی اراضی سیکڑوں ایکڑ اس کے علاوہ ہے۔
سال 2014ء کے دوران صہیونی حکام کی جانب سے وادی اردن کے 140 خاندانوں کو جبری طور پر گھر بارچھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ وادی اردن کے زرعی علاقوں کو قبضے میں لینے کے لیے نام نہاد فوجی مشقوں اور سیکیورٹی کی آڑ میں درجنوں ایکڑ اراضی کو عارضی طور پر قبضےمیں لینے کے بعد ان کے مالکان کو واپس نہیں کیا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
