الخلیل کے محکمہ اوقاف کی جانب سے خبر رساں ایجنسی "قدس پر یس” کو بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوجیوں کی جانب سے مسجد ابراہیمی میں مداخلت کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ گذشتہ مہینے انتہا پسند یہودیوں کے مطالبے پر پچاس سے زائد مرتبہ اذان دینے پر پابندی لگائی گئی۔
محکمہ اوقاف کے حکام کا کہنا ہے کہ صہیونی پولیس اور فوج کی جانب سے انہیں بتایا گیا کہ مسجد ابراہیمی کے اسرائیل کے زیرانتظام حصے میں موجود یہودی آباد کاروں کو اذان کے باعث پر یشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا مسجد میں لاؤڈ اسپیکروں پر اذان نہ دی جائے۔
فلسطینی محکمہ اوقاف کا کہنا ہے کہ یہودی فوجیوں نے مسجد ابراہیمی کے صہیونی مقبوضہ حصے میں ایک اہم اجلاس بھی منعقد کیا ہے۔ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں صہیونی افسران نے فوجیوں کو لیکچر بھی دیے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
