مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق پروگریسیو پارٹی کے سیکرٹری جنرل نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں صہیونی ریاست کی طرف سے اپنے ذمہ فلسطینی اتھارٹی کے واجب الادا ٹیکس روکنے کے اعلان کی شدید مذمت کی اور اسے فلسطینی املاک پر’صہیونی ڈاکہ‘ قرار دیا۔
بیان میں مصطفی البرغوثی نے کہا کہ فلسطینی صدر محمود عباس فوری طورپر اسرائیل سے غرب اردن میں جاری فوج تعاون ختم کرنے کا اعلان کریں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بجمن نیتن یاھو نے کابینہ کے ایک اجلاس کے بعد کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سلامتی کونسل میں رجوع کرنے کی پاداش میں تل ابیب فلسطین کے محصولات اسے ادا نہیں کرے گا۔
مصطفیٰ البرغوثی نے کہا کہ اسرائیل اگر فلسطینی اتھارٹی کے ٹیکس ادا نہیں کررہا ہے رام اللہ حکومت کو بھی صہیونی ریاست کے ساتھ فوجی اور سیکیورٹی تعاون ختم کردینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل فلسطینی اتھارٹی پر دبائو بڑھانے کے لیے ٹیکس اور دیگر محصولات کی ادائی روکنے کا فیصلہ کررہا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کو اسرائیل کے دبائو میں نہیں آنا چاہیے بلکہ اس کے جواب میں فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی قوم کو محصولات روک کر گمراہ نہیں کرسکتا ہے۔ اگر اسرائیل نے فلسطینی قوم کا حق اسے دینے سے انکار کیا ہے تو فلسطینی اتھارٹی کو بھی اپنے موقف پر ڈٹ جانا چاہیے۔
خیال رہے کہ اسرائیل سالانہ فلسطینی اتھارٹی کو باہمی معاہدوں کے تحت 50 لاکھ شیکل کی رقم ادا کرنے کا پابند ہے۔ تاہم اس کے باوجود صہیونی حکومتیں مختلف حیلے بہانوں سے فلسطینیوں کی املاک روکنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
