مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے میڈیا کو بتایا کہ یہ افسوسناک واقعہ مغربی غزہ کے ساحلی علاقے میں قائم ایک پناہ گزین کیمپ میں پیش آیا جب ایک مکان میں بجلی نہ ہونے کے باعث جلائے گئے چراغ سے گھرکو آگ لگ گئی۔ آتش زدگی کے وقت گھر میں کئی افراد موجود تھے۔ آگ تیزی سے پھیلی اور اس نے پورے مکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ معاشی پابندیوں کے باعث فوری طور پرامدادی سرگرمیاں نہ ہوسکیں۔
آتش زدگی کے نتیجے میں پانچ سالہ عمرومحمد اور اس کا چچاز زاد چار سالہ خالد الھبیل جھلس کرشہید ہوگئے جبکہ ایک بائیس سالہ شہری شدید زخمی ہوا ہے جس کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔
فلسطینی شہری دفاع کے ترجمان محمد المیدنہ نے میڈیا کو بتایا کہ مغربی غزہ میں ایک پناہ گزین کیمپ کے ایک مکان میں اچانک چراغ کی وجہ سے لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم سے کم دو بچے شہید اور تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی پابندیوں کے باعث بجلی کا شدید بحران ہے اور سخت سردی میں بھی شہریوں کو دن بھر میں چند گھنٹے بھی بجلی فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔ موسم کی خرابی کے باعث توانائی کا بحران زیادہ شدت اختیار کرگیا ہے۔
