مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بدھ کے روز رام اللہ میں اپنے جماعت ’فتح‘ کے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کے مطالبے کے لیے قرارداد پیش کرنا ہمارا آخری مشن نہیں تھا۔ سلامتی کونسل میں فلسطینی قرارداد مسترد ہونے کے بعد ہم نے راتوں رات متبادل راستوں پر اپنا سفرشروع کردیا ہے۔ ہم ہر صورت میں فلسطینی علاقوں سے اسرائیل کا ناجائز قبضے کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
صدر محمود عباس نے کہا کہ کچھ لوگ یہ گمان کررہے ہیں کہ سلامتی کونسل میں قرارداد مسترد ہونے کے بعد ہم ناکام و نامراد رہے ہیں اور فلسطینیوں کو مایوسی ہوئی ہے۔ جو لوگ ایسا سوچتے ہیں وہ غلط فہمی میں ہیں، ہم اپنی پالیسی اور موقف پر قائم رہیں گے۔ ہمارا اصل مقصد قوم کا مفاد ہے جب تک قوم کو اس کے حقوق نہیں مل جاتے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل ہماری مساعی کا آخری کنارا نہیں اور نہ ہی ہمارے مشن کی آخری منزل ہے۔ ہم راتوں رات فیصلہ کرتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ تاہم صدر عباس نے اپنی تقریر میں ایسی کسی متبادل فیصلے کی کوئی وضاحت نہیں کی کہ آیا وہ سلامتی کونسل میں اپنے امن پروگرام کی ناکامی کے بعد کیا کرنے جا رہے ہیں۔
محمود عباس نے اپنی تقریر میں روایتی مطالبات کو دہرایا اور کہا کہ ہم ایک ایسی خود مختار فلسطینی ریاست چاہتے ہیں جس میں بیت المقس کو اس کا دارالحکومت قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس اور غرب اردن کے بغیر فلسطینی ریاست کا کوئی وجود نہیں ہوگا۔
فلسطینی صدر نے اسرائیل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ لوگ ہمیں ہمارا حق دینے سے انکاری ہیں۔ حق چھین کرلیا جاتا ہے اور ہم بھی اپنا حق لے کر رہیں گے۔ انہوں نے غزہ کی پٹی کی تعمیر نو اور قومی مفاہمت کا عمل جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔
خیال رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے ان خیالات کا اظہار ایک ایسے وقت میں کیا ہے کہ سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کی حمایت کے لیے پیش کی گئی قرارداد کو امریکا نے اسرائیل کے حق میں ویٹو کردیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
