مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق برطانیہ میں ’’مرکز برائے امور فلسطین‘‘ کے زیراہتمام ایک تازہ مہم شروع کی گئی ہے جس میں فلسطینی صدر محمود عباس کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور قومی حقوق پر پسپائی اختیار کرنے پر جوڈیشل ٹرائل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مرکز امور فلسطین کی جانب سے ایک مفصل یاداشت تیار کی گئی ہے جس پر فلسطینی اور دوسرے شہریوں سے دستخط لیے جا رہے ہیں۔ یاداشت میں کہا گیا ہے کہ صدر محمود عباس نے سلامتی کونسل میں ایک ناقص قرارداد پیش کرکے نہ صرف فلسطینی قوم کے دیرینہ مطالبات اور بنیادی حقوق اور اصولوں پر پسپائی اختیار کی ہے بلکہ انہوں نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے نہایت کمزر ایمان کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس قرارداد کے بعد صدر محمود عباس کی اپنی حیثیت متنازعہ ہوچکی ہے۔ لہٰذا فلسطینی عوام انہیں ان کے عہدے سے ہٹانے کے بعد ان کے جوڈیشل ٹرائل کی حمایت کریں۔
یاداشت میں واضح الفاظ میں کہا گیاہے کہ فلسطینی قوم کے بنیادی حقوق اور مسلمہ مطالبات پر جو بھی سودے بازی کرے یا افراط و تفریط سے کام لے اسے فلسطین میں اقتدار کے مزے لوٹنے کا کوئی حق نہیں۔ فلسطینی قوم اپنی گردنوں سے ایسے رہ نمائوں کو اتار پھینکیں جو قوم کے بنیادی اصولوں اور مطالبات کو نظرانداز کرتے ہوئے دشمن کوسہولت مہیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یاداشت میں کچھ سوالات اٹھائے گئے اور انہی سوالات پر عوام الناس سے رائے مانگی گئی ہے۔ شہریوں سے پوچھا گیا کہ کیا آپ محمود عباس کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے بعد ان کے خلاف جوڈیشل ٹرائل کے حامی ہیں۔ کیونکہ محمود عباس نے فلسطینی ریاست کی آڑ میں 78 فی صد فلسطینی اراضی سے دستبردار کا اعلان کرتے ہوئے محض 22 فی صد علاقے پر فلسطینی ریاست کے قیام کی قرارداد پیش کرکے قوم کے بنیادی مطالبات سے انحراف کیا ہے۔
یاداشت میں کہا گیا ہے کہ صدر محمود عباس نے بیت المقدس کے بارے میں بھی مبہم انداز اختیار کرتے ہوئے مقدس شہر کی حیثیت کو مزید متنازعہ بنانے اور اسرائیل کو سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ غزہ کی پٹی کی معاشی پابندیوں میں بھی صہیونی دشمن کے ساتھ شامل ہیں۔ انہوں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی مسلط کردہ جنگ کی تحقیقاتی رپورٹ پر اسرائیل کے خلاف کارروائی کی راہ میں بھی رکاوٹ پیدا کی تھی۔ فلسطینی صدر محمود عباس مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں بھی دشمن کی مدد کررہے ہیں۔ انہوں نے اپنے زیرانتظام سیکیورٹی اداروں کو فلسطینی قوم کی عوامی مزاحمت کچلنے پر مامور کر رکھا ہے۔
ان تمام وجوہات کے بعد صدر محمود عباس کا اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے۔ اس لیے فلسطینی قوم صدر محمود عباس کے استعفے کے لیے ایک زور دار مہم شروع کرے تاکہ فلسطینی قوم کے بنیادی حقوق میں افراط و تفریط کرنے والوں کو اقتدار سے الگ کرکے ان کا محاسبہ کیا جاسکے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
