مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی محکمہ اواقاف کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فلسطین میں مسلمانوں اور مسیحی برادری کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ بیت المقدس میں برسوں پرانی جامع مسجد النبی صموئل پر قبضہ اور اسے یہودی آثار قدیمہ کا حصہ قرار دینا صہیونی ریاست کی مذہبی دہشت گردی اور غنڈہ گردی کا تسلسل ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت اور انتہا پسند یہودی تنظیموں نے حال ہی میں بیت المقدس میں قائم تاریخی مسجد ’’النبی صموئل‘‘ کو بنی اسرائیل کے پیغبر حضرت شمویل کی آخری آرام گاہ قرار دیتے ہوئے اسے یہودی تاریخی مقامات کا حصہ قرار دیا اوراسی بہانے کی آڑ میں مسجد پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں پر یہودیوں کے لیے ایک عبادت گاہ کی تعمیر کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
مسجد اور اس سے ملحقہ اراضی پر بھی اسرائیل نے قبضہ کرلیا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی محکمہ اقاف نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کا مسجد اور اس کی اراضی پر کوئی حق نہیں۔ مسجد اور اس کی املاک پر قبضہ صہیونی ریاست کا مذہبی ڈاکہ ہے جس کا مقصد فلسطین کے تاریخی حقائق کو مسخ کرتے ہوئے سرزمین فلسطین میں یہودیوں کی جعلی تاریخ کو ثابت کرنے کی سازش کرنا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
