اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل فلسطینی اسیران کی جانب سے انسانی حقوق کے گروپوں کی مدد سے مصنوعی طریقے سے نطفہ (مادہ تولید) کی منتقلی کے نتیجے میں بچوں کی پیدائش کا رحجان تیزی سے فروغ پانے لگا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے دو سال میں اسمگل شدہ نطفے سے اب تک کم سے کم 30 بچے پیدا ہوچکےہیں۔ نطفہ اسمگل کرکے باپ بننے والے فلسطینی قیدیوں میں سے بعض کئی بارعمر قید کے سزا یافتہ فلسطینی اسیر بھی شامل ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق گروپ ’’اسٹڈی سینٹر برائے حقوق اسیران‘‘ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست فلسطینی اسیران کے نطفے کی منتقلی سے بچوں کی پیدائش کا سلسلہ سنہ 2012ء کو شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے دو سال میں اس منفرد سائنسی مصنوعی طریقے سے کم سے کم تیس بچے جنم لے چکے ہیں.
انسانی حقوق گروپ کے ڈائریکٹر فواد الخفش نے بتایا کہ اسمگل شدہ نطفے سے فلسطینی قیدی عمار الزبن کے ہاں سنہ 2012ء کے وسط میں ہوئی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس تھا کہ قیدی عمار الزبن کی اہلیہ نے جدید سائنسی طریقے سے اس کے شوہر کے نطفے کی اپنے رحم مادر میں منتقلی کے بعد ایک بچے کوجنم دیا۔
خیال رہے کہ اسیر عمار الزبن کو صہیونی عدالت کی جانب سے 27 بارعمر قید اور 25 سال اضافی قید کی سزا سنا رکھی ہے اور وہ پچھلے 15 سال سے صہیونی جیل میں پابند سلاسل ہے۔ عمارالزبن کے تجربے کی کامیابی باب بننے کے خواہش مند دیگر فلسطینی اسیران میں امید کی ایک نئی کرن روشن کی اور اب تک دو درجن سے زائد قیدی باپ بن چکے ہیں۔
اس سلسلے میں تازہ ترین پیدائش اسیر یحیٰ النمر کے ہاں ایک بچے کی پیدائش کا ہے۔ چوبیس سالہ قید کے سزا یافتہ النمر کو دو روز قبل اللہ نے چاند سا بیٹا دیا۔ اس سے محض ایک ہفتہ قبل ایک دوسرے فلسطینی اسیر زیاد علی قواسمہ کے اسمگل شدہ نطفے سے اس کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہوئے تھے۔
مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے فلسطینی انسانی حقوق کے مندوب فواد الخفش نے بتایا کہ اسمگل شدہ نفطے سے باپ بننے والے فلسطینی قیدیوں میں سے تین کا تعلق غزہ کی پٹی اور 20 کا مقبوضہ مغربی کنارے سے ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
