مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بیرون ملک مقیم فلسطینی شہریوں کی دیکھ بحال اور ان کے حقوق کے لیے سرگرم فلسطینی کمیٹی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ رسمیہ عودہ کو پچاس ہزار ڈالر ضمانت کے بدلے میں رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رسمیہ عودہ پرالزام ہے کہ اس نے بیس سال پیشتر امریکا کے سفر اور امریکی شہریت کے حصول کے لیے اپنی دستاویزات میں جعل سازی کی تھی اور بہت سی اہم معلومات کو خفیہ رکھا تھا۔
وہ متعدد مرتبہ اسرائیل کی جیلوں میں قید بھی رہ چکی ہے تاہم اس کے باوجود اس نے امریکی ویزے کے حصول کے لیے جا فارم پر کیا اس میں ایسی کوئی بات نہیں بتائی گئی تھی۔
پی ایل او کی فارن امور کمیٹی کے رکن سنان شقدیح نے بتایا کہ رسمیہ عودہ کی رہائی جلد عمل میں لائی جائے گی۔ کیونکہ امریکی عدالت کے جج نے اپنے سابقہ فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے ضمانت پر رہا کرنے کی اجازت دے دی ہے، تاہم اس سے قبل سامنے آنے والے فیصلے می ضمانت قبول کرنے سے بھی انکار کر دیا گیا تھا۔
شقدیح نے کہا کہ فلسطینی خاتون کی جیل سے رہائی کو یقینی بنانے اور ضمانت کی مطلوبہ رقم کا انتظام امریکا میں موجود فلسطینی شہریوں نے کیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
