مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی جیل ریمون میں قید فلسطینی انور علیان کا نطفہ مصنوعی طریقے سے جیل سے ایک سال قبل اسمگل کیے جانے کے بعد اس کی اہلیہ کے جسم میں منتقل کیا گیا تھا۔
انور علیان کو اسرائیلی عدالت کی جانب سے 23 سال قید کی سزا کا سامنا ہے جس میں سے 12 سال مختلف جیلوں میں قید کاٹ چکا ہے۔
جڑواں بچوں کے دادا انور نے پوتوں کی پیدائش پر نہایت جذباتی انداز میں تبصرہ کیا۔ بات کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔انہوں نے کہا کہ یہ آنسو دکھ اور خوشی دونوں کے ہیں۔ دکھ اس بات کا کہ بچوں کا باپ ان کے پاس نہیں اور خوشی یہ کہ اللہ نے اسے پوتوں نوازا ہے۔
خیال رہے کہ انور علیان کا ایک بیٹا احمد عمر سنہ 2001ءمیں ایک فدائی حملے میں جام شہادت نوش کرچکا ہے۔
بچوں کے دادا نے مزید کہا کہ ہمیں خوشی ہوتی کہ اس ایک شہید بھائی، چچا اور والد سب آج خوشی کے اس موقع پر ہمارے ساتھ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ اسمگل شدہ نطفے سے اس کے بیٹے کے ہاں مزید دو بچوں کی پیدائش صہیونی مظالم کے مقابلے میں ہماری فتح ہے۔ یہ بچے ہمارے لیے، عزت، بزرگی اور آزادی کی علامت ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے مادہ تولید کی جدید سائنسی طریقے سے رحم مادر میں منتقلی کا چلن پچھلے چند سال سے زیادہ زور پکڑ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پچھلے تین برسوں کے دوران اس طریقے سے تین بچے پیدا کیے جا چکے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
