• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

فلسطین میں یہودی توسیع پسندی کے رحجان میں اضافے پر انتباہ

بدھ 03-12-2014
in فلسطین
0
plf warning
0
SHARES
0
VIEWS

افریقا کے عرب ملک مراکش میں سرگرم انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس اور غرب اردن سمیت ملک کے دوسرے شہروں میں اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی توسیع پسندی کے رحجان میں اضافے پر خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ صہیونی ریاست نے فلسطینیوں کے اپنے ہی ملک میں زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "نصرت مسائل امہ” کے چیئرمین عبدالصمد فتحی نے کہا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے کے دوران بیت المقدس اور فلسطین کے دوسرے علاقوں میں یہودی توسیع پسندی اور فلسطینیوں کے جبرا بے دخلی کے رحجان میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے فلسطین میں اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات پرچشم پوشی اختیار کررہی ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے سنہ 1977ء میں فلسطینی قوم سےیکجہتی کا اعلان کیا مگر اس کے باوجود تقسیم فلسطین کی قراردادوں کے نتیجے میں تقسیم کا جو غیرمنصفانہ فیصلہ کیا گیا تھا اس کے تحت یہودی مسلسل توسیع پسندی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی میں 29 نومبر1947ء کو تقسیم فلسطین کی ظالمانہ قرارداد منظور کی گئی تھی اس میں  جہاں ارض فلسطین پر یہودی ریاست ‘‘اسرائیل‘‘ کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا وہیں ساتھ ہی آزاد اور خود مختار فلسطینی مملکت کا بھی اعلان کیا گیا۔ یہودیوں اورصہیونیوں کو جو اس ملک کے باشندے ہی نہیں انہیں ملک بنانے کی اجازت دی گئی مگر فلسطینی آج تک ان کے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔

عبدالصمد فتحی کا کہنا تھا کہ فلسطین میں یہودی توسیع پسندی کے تازہ رحجان میں اضافے کے کئی اندرونی اور بیرونی محرکات ہیں۔ مقامی سطح پر اسرائیل ارض فلسطین میں خود کو مزید اقتصادی اور سیکیورٹی کےپہلو سے مضوط بنانے کے لیے چپے چپے پر یہودیوں کو آباد کر رہا ہے اور فلسطینیوں کو وہاں فوجی طاقت کے ذریعے بے دخل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

دوسرا اندرونی پہلو پیش آئند پارلیمانی انتخابات ہیں۔ اسرائیل کی ہر جماعت کو یہ اندازہ ہے کہ وہ صرف انتہا پسند گروپوں کی خوشنودی حاصل کرکے پارلیمنٹ میں پہنچ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتہاپسندوں کی خوشنودی کی خاطر ارض فلسطین میں یہودی آباد کاری میں غیرمعمولی پیمانے پر اضافہ کیا جا رہا ہے۔

بیت المقدس میں موجود تمام مقدسات بشمول مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کی دست درازی بھی انتہا پسندوں کی رضا اور خوش نودی کے حٓصول کا ایک ذریعہ ہے۔ ایسے میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے مقدس مقامات کے دفاع کے لیے کوئی موثر اور جاندار کوشش بھی نہیں ہو رہی ہے۔ رام اللہ اتھارٹی الٹا اسرائیل کے ساتھ اپنی ہی قوم کے خلاف فوجی تعاون کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کی قومی مفاہمت بھی دائو پر لگی ہوئی ہے۔

عبدالصمد الفتحی کا کہنا تھا کہ فلسطین میں اسرائیل کی توسیع پسندی میں اضافےکا ایک دوسرا محرک علاقائی ہے۔ یہ وہ عوامل ہے جس کےتحت اس وقت سیاسی اسلام کے خلاف سیاسی قوتیں اعلانیہ اور در پردہ سازشیں کررہی ہیں۔ چونکہ اس وقت عرب دنیا اپنے اندرونی خلفشارکا شکار ہوچکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ موقع اسرائیل کے لیے یہودی توسیع پسندی کے لیے ایک سنہری موقع ثابت ہو رہا ہے۔

عالمی سطح پر بھی دنیا فلسطینیوں کے مسائل کو منصفانہ نظرسے نہیں بلکہ اسرائیل کےساتھ مفادات کی عینک سے دیکھ رہی ہے۔ اس لاپرواہی اور دیدو دانستہ غفلت کے نتیجے میں اسرائیلی فلسطینی قوم کے خلاف جرائم میں اضافہ کررہا ہے۔ اس وقت فلسطینی قوم پرمظالم اور مقدس مقامات کی بے حرمتی کے جہاں اندرونی اسباب ہیں وہیں عالمی برادری کی جانب دارانہ اور غیرمنصفانہ پالیسی بھی ہے۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.