مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اپنے ایک بیان میں او آئی سی کے سربراہ نے بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی روز مرہ کی بنیاد پر جاری غنڈہ گردی کی شدید مذمت کی اور اسے منظم ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔
خیال رہے کہ گذشتہ جون کے پہلے ہفتے میں انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا میں او آئی سی کے وزرائے سیاحت کے اجلاس کے دوران اگلے دو سال کے لیے اسلامی دنیا کے سیاحتی دارالحکومتوں کے لیے شہروں کے نام طلب کیے گئے۔ اجلاس کے بعد مختلف شہروں سے آئے ناموں میں سے بیت المقدس اور ترکی کے قونیہ شہر کو فائنل کر دیا گیا تھا تاہم سیکرٹری جنرل کی جانب سے اس کی منظوری باقی تھی جو اب دے دی گئی ہے۔
ادھر ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے او آئی سی کی اقتصادی اور تجارتی کمیٹی ’’کومسیک‘‘ کے استنبول میں منعقدہ افتتاحی اجلاس سے خطاب میں ان کا ملک اور اسلامی تعاون تنظیم بیت المقدس کے دفاع اور فلسطینیوں کے دیرینہ حقوق کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
اس موقع پر ترک صدر نے کہا کہ پچھلے چند برسوں کےدوران مسلم ممالک میں باہمی تجارت اور ترقی کے فروغ کے لیے اہم قدم اٹھائے ہیں۔ جس کے نتیجے میں مسلمان ملکوں میں ترقی اور خوش حالی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی اور اس کی تمام ذیلی تنظیمیں مسلم دنیا کو یکجا کرنے کے لیے ہرفورم پر کام کر رہی ہیں۔
تقریب میں اسلامی ترقیاتی بنک کے چیئرمین احمد محمد علی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے مسلم دنیا میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے او آئی سی کےاداروں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ تعاون تنظیم کے زیراہتمام ’’کومسک‘‘ کمیٹی مسلم ممالک میں تجارت کے فروغ کے لیے نہایت موثر اقدامات کررہی ہے۔ خیال رہے کہ اس کمیٹی کے چیئرمین ترک صدر رجب طیب ایردوآن خود ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
