مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی آئی جی پولیس نے جنوبی اسرائیل کی اسدیروت کالونی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیت المقدس میں فلسطینی شہریوں کی جانب سے تشدد کے واقعات میں کمی کے بجائے روز افرزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تشدد کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو مسجد اقصیٰ کے بارے میں ہماری پالیسی بھی تبدیل ہو جائے گی۔
اسرائیلی پولیس چیف نے اعتراف کیا کہ یہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد کو حرم قدسی میں داخل ہونے کی اجازت دینا غلطی تھی جس کے نتیجے میں بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں میں اشتعال پیدا ہوا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی حکومت کے مشیر قانون یہودا فائنٹچائن بھی یہودی آباد کاروں بالخصوص لیکوڈ پارٹی کے شدت پسند رہنما موشے ویگلین کے مسجد اقصیٰ میں داخلے کو اشتعال انگیز قرار دے کر اس کی مخالفت کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ مسجد اقصیٰ کے گردو پیش میں پچھلے ایک ماہ سے حالات سخت کشیدہ ہیں۔ فلسطینی شہریوں کی جانب سے روز مرہ کی بنیاد پر اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ یہودیوں پر انفرادی نوعیت کے حملے بھی سامنے آئے ہیں تاہم صہیونی فوج مسلسل منظم ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کیے جا رہی ہے۔
صہیونی حکومت چند ہفتے قبل مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کے داخلے پر پابندی بھی لگا چکی ہے تاہم عالمی برادری کی تنقید کے بعد اسے قبلہ اول کو دوبارہ کھولنا پڑا ہے۔ صہیونی وزیراعظم نیتن یاھو نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کا اسٹیٹس تبدیل نہیں ہونے دیں گے اور اس کی مذہبی حیثیت سمیت اس کی نگرانی کے لیے اردنی حکومت کا کردار باقی رکھا جائے گا۔ تاہم صہیونی پولیس چیف کا کہنا ہے کہ اگر فلسطینی پرتشدد کارروائیاں جاری رکھتے ہیں تو مسجد اقصیٰ کی حیثیت کے بارے میں پالیسی تبدیل کر دی جائے گی.
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
