مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر ارڈان کا کہنا تھا کہ وہ ہر اس فلسطینی باشندے کی بیت المقدس کی شہریت ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس یہودی آباد کاروں پر براہ راست حملوں یا حملوں کے لیے اکسانے کا شبہ ہو۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیرداخلہ نے القدس کے باشندوں کی بیت المقدس کی شہریت منسوخ سازش ایک ایسے وقت میں تیار کی ہے جب دوسری جانب صہیونی کنیسٹ میں اسی نوعیت کا ایک مسودہ قانون بھی زیرغور ہے جس میں سفارش کی گئی ہے کہ یہودی آباد کاروں پر حملوں کے مرتکب فلسطینیوں کو بیت المقدس سے نکال دیا جائے۔ یہ مسودہ قانون اسرائیل کی دائیں بازو کی شدت پسند سیاسی جماعت جیوش ہوم کے رکن ایلیت چاکید کی جانب سے جمع کرایا گیا ہے۔ مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس کے وہ تمام باشندے جن پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا شبہ ہو انہیں القدس سے نکال باہر کیا جائے۔ مجوزہ مسودہ قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ یہودی آباد کاروں پر قاتلانہ حملے چاہے وہ گاڑیوں کے ذریعے کچلنے کے ہوں یا چاقو اور دیگر آلات قتل کے ذریعے کیے گئے ہوں انہیں دہشت گردی تصور کیا جائے اور ان کے مرتکب فلسطینیوں کو القدس سے نکال دیا جائے۔
اس قانون میں وزیرداخلہ کو فلسطینی شہریوں کی القدس کی شہریت ختم کرنے کے لیے خصوصی اختیارات دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
