خیال رہے ابو خضیر کو گذشتہ جون میں نماز فجر کے لیے مسجد جاتے ہوئے شعفاط کیمپ سے اغواء کیا گیا تھا اور کچھ دیر بعد اسے زندہ جلا کر شہید کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے میں حائیم بن ڈیوڈ کو ملوث قرار دیا گیا تھا جس نے کچھ دوسرے یہودی دہشت گردوں سے مل کر ابو خضیر کو اغواء کے بعد نہایت بے رحمی کے ساتھ شہید کر دیا تھا۔
اسرائیلی اخبار نے ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بیت المقدس میں قائم "ہارنوف” نامی یہودی معبد میں دہشت گرد حائیم بن ڈیوڈ کا والد یوسف بن ڈیوڈ اکثر جایا کرتا ہے۔ جب حملہ ہوا اس وقت بھی وہ اس معبد میں موجود تھا تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا وہ بچ گیا یا زخمی یا ہلاک ہوا ہے۔
واضح رہے کہ حائیم بن یوسف نامی دہشت گرد کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے کی ایک یہودی کالونی سے ہے تاہم بیت المقدس میں اس کی عینکوں کی ایک دکان تھی۔ ابو خضیر کے قتل میں ماخوذ ہونے کے بعد اسے صہیونی جیل میں منتقل کیا گیا ہے۔ گذشتہ روز اس کی عدالت میں پیشی تھی۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر اس نے کہا کہ ابو خضیر کے اغواء کے وقت وہ ذہنی طور پر محبوط الحواس ہو چکا تھا۔ اس لیے عدالت اس کی بریت کا فیصلہ کرے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مغربی القدس میں منگل کے روز "ھارنوف” یہودی معبد میں دو فلسطینی مزاحمت کاروں نے فائرنگ کر کے پانچ یہودی ہلاک اور سات زخمی کر دیے تھے۔ جوابی کارروائی میں دونوں فلسطینی حملہ آور بھی شہید ہو گئے۔
مقتول یہودیوں کی شناخت 59 سالہ موشے طبرسکی،43 سالہ ارے کو بنسکی، 68 سالہ افراہم گولڈبیرگ، 55 سالہ کالمن زئوف لیفین اور 30 سالہ زیدان سیف کے ناموں سے کی گئی ہے۔ ان میں سے تین کے پاس امریکی شہریت بھی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
